رپورٹ سید افنان شاہ
اسلام آباد پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے قومی اسمبلی کے رکن عادل بازئی کے حوالے سے انکشاف ہوا ہے کہ وہ خون کے کینسر (لیمفوما) کے مرض میں مبتلا ہیں اور ان کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
پی ٹی آئی کے سینئر رہنما اور رکنِ قومی اسمبلی جنید اکبر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ڈاکٹروں نے عادل بازئی کو فوری طور پر بیرونِ ملک منتقل کرنے اور علاج کرانے کی سفارش کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عادل بازئی کی صحت تیزی سے بگڑ رہی ہے اور انہیں اس وقت ہنگامی بنیادوں پر ماہرانہ طبی امداد کی ضرورت ہے۔
جنید اکبر نے وفاقی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ رکنِ اسمبلی کے علاج کے سلسلے میں وفاقی سطح پر رابطے کیے گئے اور مدد کی درخواست کی گئی، تاہم اب تک حکومت کی جانب سے کوئی خاطر خواہ تعاون سامنے نہیں آیا۔
انہوں نے اپیل کی کہ یہ معاملہ سیاسی نہیں بلکہ انسانی ہمدردی کا ہے۔ عادل بازئی ایک عوامی نمائندے ہیں اور ان کی زندگی بچانے کے لیے سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر فوری اقدامات کیے جانے چاہئیں۔
عادل بازئی کا تعلق کوئٹہ سے ہے اور وہ حالیہ مہینوں میں پارلیمانی سیاست میں کافی سرگرم رہے ہیں۔ گزشتہ سال آئینی ترامیم کے دوران ان کا نام اس وقت خبروں میں رہا جب ان کے بارے میں متضاد اطلاعات سامنے آئیں کہ آیا وہ پارٹی پالیسی کے ساتھ کھڑے ہیں یا نہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق لیمفوما خون کے کینسر کی ایک ایسی قسم ہے جو انسانی جسم کے مدافعتی نظام کو متاثر کرتی ہے۔ اس مرض کے علاج کے لیے مخصوص تھراپی اور بعض اوقات پیچیدہ سرجری کی ضرورت ہوتی ہے، جو پاکستان کے چند ہی مراکز میں دستیاب ہے۔
پی ٹی آئی کی قیادت نے مطالبہ کیا ہے کہ عادل بازئی کا نام اگر کسی پابندی کی فہرست میں ہے تو اسے فوری نکال کر انہیں علاج کے لیے بیرونِ ملک جانے کی اجازت دی جائے تاکہ ان کی جان بچائی جا سکے۔
حکومتی ذرائع نے تاحال اس معاملے پر کوئی باضابطہ ردِعمل ظاہر نہیں کیا ہے، تاہم ماضی میں ایسے معاملات پر میڈیکل بورڈ کی سفارشات کے بعد ہی فیصلے کیے جاتے رہے ہیں۔