تحریر: سیدزادہ عبدالوکیل
بلوچستان کی انتظامیہ کی نااہلی اور عوامی مسائل سے مجرمانہ غفلت کی داستانیں تو نئی نہیں، لیکن کوئٹہ میں محکمہ جنگلات کے دفتر سے سامنے آنے والے مناظر نے اخلاقی دیوالیہ پن کی تمام حدیں عبور کر لی ہیں۔ جس وقت بلوچستان کا عام شہری مہنگائی، بے روزگاری اور سرکاری دفاتر کے دھکوں سے نیم جاں ہو چکا ہے، عین اسی وقت فاریسٹ آفس کی چھت پر بیٹھے افسران سرکاری اوقاتِ کار میں فائلیں نپٹانے کے بجائے بو کاٹا کے نعرے لگا رہے ہیں۔
قانون کی حکمرانی کا جنازہ
سرکاری دفاتر عوام کی خدمت کے لیے ہوتے ہیں نہ کہ افسر شاہی کے شوق پورے کرنے کے لیے۔ یہ انتہائی شرمناک امر ہے کہ سائلین نیچے تپتی دھوپ میں اپنے جائز کاموں کے لیے منتیں کرتے رہیں اور اوپر صاحب شیشے کے لگژری کیبن میں بیٹھ کر چائے کے چسکوں کے ساتھ پتنگ بازی کا لطف اٹھائیں۔
یہ صرف غفلت نہیں بلکہ ریاست کے مروجہ قوانین کا تمسخر اڑانے کے مترادف ہے۔ کیا یہ افسران خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں؟ یا انہیں یقین ہے کہ ان کے اوپر بیٹھے سرپرست بھی اسی قبیل سے تعلق رکھتے ہیں؟
آج جمعہ ہے آج کام نہیں ہوگا بدترین جملہ
دفتر کے پی این کا یہ جواب کہ آج پتنگ بازی کا دن ہے کام نہیں ہوگا اس گلے سڑے نظام کے منہ پر زوردار تمانچہ ہے۔ یہ جملہ ثابت کرتا ہے کہ اس محکمے میں اوپر سے نیچے تک کرپشن اور کام چوری کی جڑیں کتنی گہری ہو چکی ہیں۔
اگر جمعہ کا دن عبادت اور خدمت کے بجائے پتنگ بازی کے لیے وقف ہے، تو حکومت کو چاہیے کہ ایسے افسران کی تنخواہیں بھی آسمان سے گرنے والی ڈوروں سے ہی ادا کرے عوامی خزانے پر بوجھ بننے کی ضرورت نہیں۔
سرکاری عمارت میں لگژری عیاشی کا سوال
دفتر کی چھت پر شیشے کا عالیشان حصہ تعمیر کرنا کس کے حکم پر ہوا؟ اس پر اٹھنے والے اخراجات کا آڈٹ کیوں نہیں کیا گیا؟ ایک ایسے صوبے میں جہاں اسکولوں کی چھتیں نہیں اور اسپتالوں میں ادویات میسر نہیں وہاں ایک سرکاری دفتر کی چھت کو ‘پکنک پوائنٹ’ میں تبدیل کرنا عوامی وسائل کی بدترین چوری ہے۔ یہ افسران شاید بھول گئے ہیں کہ وہ جس چھت پر کھڑے ہو کر قہقہے لگا رہے ہیں، اس کی اینٹ اینٹ اس غریب سائل کے ٹیکس سے بنی ہے جسے وہ اپنے قریب پھٹکنے نہیں دیتے۔
احتساب کا کٹہرا اور حکومت کی ذمہ داری
وزیر اعلیٰ بلوچستان اور چیف سیکرٹری صاحب کیا آپ کی انتظامیہ صرف بیانات تک محدود ہے؟ اگر سرکاری دفاتر میں پتنگیں اڑانا اور سائلین کو دھتکارنا ہی گورننس ہے تو پھر ان محکموں کو تالے لگا دیے جائیں۔ شہریوں کا مطالبہ اب صرف تحقیقات نہیں بلکہ ان تمام ‘پتنگ باز’ افسران کی فی الفور معطلی اور ان کے خلاف سخت ترین محکمانہ کارروائی ہے۔
اگر آج ان کے خلاف ایکشن نہ لیا گیا تو یاد رکھیے کہ عوام کا غم و غصہ کل کسی اور رخ پر نکلے گا۔ ان سفید ہاتھیوں کو یہ باور کرانا ضروری ہے کہ حکومت انہیں عوامی مسائل حل کرنے کی تنخواہ دیتی ہے آسمان پر پیچ لڑانے کی نہیں۔