BNNBalochistan Urdu news

نوشکی حملوں کے بعد کی صورتحال ملبے تلے دبی زندگی اور ہجرت کا کرب

رپورٹ سیدزادہ عبدالوکیل

نوشکی بلوچستان کا سرحدی شہر نوشکی جو حال ہی میں کالعدم عسکریت پسند تنظیم بی ایل اے کے آپریشن ہیروف کا مرکز بنا اب ایک خاموش ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ بی این این کی ٹیم نے نوشکی کے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا جہاں جلی ہوئی عمارتیں، گولیوں سے چھلنی دیواریں اور شہریوں کی آنکھوں میں بسا خوف ان ہولناک تین دنوں کی داستان سنا رہا ہے۔
کنٹینر میں بند مستقبل نقل مکانی کا آغاز
کوئٹہ سے نوشکی کی جانب سفر کے دوران ہماری ٹیم نے ایک تجارتی کنٹینر دیکھا جس سے چھوٹے بچے اتر رہے تھے۔ یہ نواز محمد کا خاندان تھا جو اپنا گھر بار چھوڑ کر کوئٹہ منتقل ہو رہا تھا۔
نواز محمد نے بی این این کو بتایا

نوشکی میں اب کچھ نہیں بچا۔ میری دکان دھماکوں میں تباہ ہوگئی اور جو بچا تھا وہ لوٹ لیا گیا۔ میں اپنے بچوں کو اس خوف کے سائے میں نہیں رکھ سکتا۔

تباہی کے نشانات: سرکاری و نجی املاک کا نقشہ
نوشکی میں سرکاری انفراسٹرکچر کو جس بے دردی سے نشانہ بنایا گیا، اس کی مثال ماضی میں کم ہی ملتی ہے۔
* جوڈیشل کمپلیکس اور پولیس لائنز: بی این این نے دیکھا کہ پولیس لائنز کی دیواریں منہدم ہیں اور دو درجن سے زائد گاڑیاں جلا کر راکھ کر دی گئی ہیں۔ جوڈیشل کمپلیکس میں عدالتی کارروائی مکمل معطل ہے، جس سے سینکڑوں سائلین دربدر ہیں۔
ڈسٹرکٹ جیل کا معمہ: جیل کی عمارت تین روز تک حملہ آوروں کے قبضے میں رہی۔ پولیس ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ اس دوران 30 سے زائد خطرناک قیدیوں کو فرار کروا دیا گیا۔
تجارتی مراکز: انام بوستان روڈ، جو افغانستان سے تجارت کا اہم راستہ ہے، وہاں بارود سے بھری گاڑی کے دھماکے نے درجنوں دکانوں کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا ہے۔
یرغمالی ڈرامہ اور جانی نقصان
شہر کے مغرب میں واقع ڈپٹی کمشنر ہاؤس، جو اپنی سکیورٹی کے لیے مشہور تھا، وہاں بھی حملہ آور داخل ہونے میں کامیاب رہے۔ ڈی سی اور ان کے اہلخانہ کو یرغمال بنایا گیا، جنہیں بعد ازاں رہا کر دیا گیا۔ تاہم، سی ٹی ڈی دفتر میں موجود سات اے ٹی ایف اہلکار اتنے خوش قسمت نہ تھے اور انہیں فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا۔
شہریوں کی مشکلات اور انجانا خوف
نوشکی کے مقامی وکلا اور تاجروں نے بی این این کو بتایا کہ شہر میں شام پانچ بجے کے بعد غیر اعلانیہ کرفیو جیسی صورتحال ہوتی ہے۔
وکیل فیصل ذگر مینگل کے مطابق:

لوگ سہمے ہوئے ہیں اور کیمرے پر بات کرنے سے ڈرتے ہیں۔ ہسپتال کئی روز بند رہے اور اب بھی بینکوں کے باہر لمبی قطاریں لگی ہیں کیونکہ نظام زندگی ابھی تک پٹری پر نہیں آ سکا ہے۔

حکومت کا ردِعمل
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ان حملوں کو پاکستان کو کمزور کرنے کی سازش قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے اپنی جانیں دے کر شہر کو بڑی تباہی سے بچایا، تاہم مقامی سطح پر سکیورٹی آپریشن کے دوران نجی املاک کے نقصان پر عوامی شکایات بھی سامنے آ رہی ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.