کوئٹہ میں ایک تھانے کی تختی نے وہ ریاست کا وہ تماشہ سرِ عام کر دیا ہے جو شاید برسوں کی سیاسی تقاریر بھی نہ کر پاتیں۔
تحریر۔ سیدزادہ عبدالوکیل
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی صاحب تشریف لائے بڑے طمطراق سے اعلان ہوا تصویریں کھنچوائیں اور تھانے کو شہید میجر انور کاکڑ کے نام سے منسوب کر کے چلے گئے۔ ابھی سرکاری فائلوں کی سیاہی بھی نہیں سوکھی تھی کہ تختی کا نصیب جاگ اٹھا اور اسے اتار کر پھینک دیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی صاحب نے آتے ہی وفاقی فیصلے کی دھجیاں اڑائیں اور وہی تھانہ ایک اور شہید سپاہی کے نام کر دیا۔ یہ محض نام کی تبدیلی نہیں بلکہ اس وفاقی اختیار کا جنازہ ہے جو اسلام آباد سے چل کر کوئٹہ پہنچا تھا۔ سوال یہ ہے کہ کیا بلوچستان میں فیصلے کسی پالیسی کے تحت ہوتے ہیں یا یہ سب محض پسند و ناپسند کا کھیل ہے؟ اگر ایک وفاقی وزیر داخلہ کی حیثیت صرف ربن کاٹنے اور کیمرے کے سامنے مسکرانے والے ایک اداکار کی رہ گئی ہے تو پھر ہمیں بتا دیا جائے کہ وفاق کا اختیار کہاں دفن ہو چکا ہے؟
سرفراز بگٹی صاحب سے تو سوال اور بھی کڑوا ہے۔ کیا وزیراعلیٰ ہاؤس میں اتنی سنجیدگی بھی نہیں کہ کسی سرکاری عمارت کا نام رکھنے سے پہلے دو منٹ بیٹھ کر مشاورت کر لی جائے؟ یا پھر یہ سب صرف طاقت کا وہ بھونڈا مظاہرہ ہے جس میں یہ دکھانا مقصود ہے کہ حکم صرف میرا چلے گا چاہے اس کے لیے شہداء کی نسبتوں کو ہی فٹ بال کیوں نہ بنا دیا جائے۔
شہر کی ہواؤں میں ایک بدنام زمانہ بلیک میلر صحافی کے مبینہ کردار کا شور ہے۔ اگر واقعی ریاست کے فیصلے کسی گھٹیا بلیک میلر کی ایما پر بدلتے ہیں تو پھر یہ انتظامیہ کی کمزوری نہیں بلکہ پورے نظام کی بے وقعتی کا اشتہار ہے۔ حکومت کی خاموشی اس تاثر پر مہرِ تصدیق ثبت کر رہی ہے کہ یہاں فیصلے میرٹ پر نہیں بلکہ پردے کے پیچھے بیٹھے کرداروں کی خوشنودی پر ہوتے ہیں۔
شہید میجر انور کاکڑ ہوں یا وہ حالیہ شہید سپاہی دونوں کا خون اس مٹی کا قرض ہے۔ ان کے ناموں کو اس سیاسی اکھاڑے اور تختیوں کی سیاست میں گھسیٹنا شہداء کی توہین اور انتظامی بددیانتی ہے۔ شہداء کے ناموں سے اعزاز وابستہ ہوتا ہے مگر یہاں تو اسے سیاسی انا اور ضد کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔
بلوچستان کو مستقل مزاجی اور سنجیدہ قیادت کی ضرورت ہے نہ کہ اس قسم کے فوٹو سیشنز کی۔ اگر ہر چار دن بعد فیصلے بدلنے ہیں اور وفاقی وزراء کے اعلانات کو ردی کی ٹوکری میں پھینکنا ہے تو پھر یہ ڈھونگ بند ہونا چاہیے۔ عوام یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ اصل اختیار کس کی جیب میں ہے اور کون ہے جو ریاست کے وقار کو یوں جوتوں تلے روند رہا ہے؟