کیا وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی ایک نام نہاد بلیک میلر صحافی کے دباؤ میں ہیں؟
فیصلہ سازی پر سنجیدہ سوالات
تحریر: سید زادہ عبد الوکیل
صوبہ بلوچستان میں حالیہ پیش رفت نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی جانب سے ایک اہم سرکاری فیصلے میں اچانک تبدیلی نے یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ آیا حکومت آزادانہ طور پر فیصلے کر رہی ہے یا کسی دباؤ کے تحت۔
چند روز قبل محسن نقوی کی موجودگی میں میجر شہید انور کاکڑ کے نام سے منسوب ایک اقدام سامنے آیا مگر بعد ازاں نام کی تبدیلی نے شکوک و شبہات کو جنم دیا۔ سیاسی و صحافتی حلقوں میں یہ چہ مگوئیاں گردش کر رہی ہیں کہ بلوچستان میں ایک بدنامِ زمانہ نام نہاد بلیک میلر صحافی حکومتی ایوانوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔
اگر یہ تاثر درست ہے تو یہ نہ صرف وزیراعلیٰ کی اتھارٹی بلکہ صوبائی حکومت کی ساکھ کے لیے بھی سنگین سوال ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ مذکورہ عناصر مبینہ طور پر دباؤ ڈال کر فیصلوں میں رد و بدل کرواتے ہیں اور اپنے مفادات کے لیے حکومتی کمزوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ تاہم ان دعوؤں کی باضابطہ تصدیق یا تردید حکومت کی جانب سے سامنے نہیں آئی۔
جمہوری نظام میں فیصلے میرٹ اور شفافیت پر ہونے چاہئیں نہ کہ غیر اعلانیہ اثر و رسوخ یا مفاداتی دباؤ کے تحت۔ اگر واقعی کوئی غیر منتخب عنصر حکومتی پالیسی پر اثر انداز ہو رہا ہے تو یہ تشویشناک ہے۔ اور اگر ایسا نہیں ہے تو وزیراعلیٰ کو کھل کر وضاحت کرنی چاہیے تاکہ ابہام ختم ہو۔
وزیراعلیٰ بلوچستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ واضح کریں:
نام کی تبدیلی کی وجوہات کیا تھیں؟
کیا کسی غیر سرکاری شخصیت نے دباؤ ڈالا؟
حکومت کی فیصلہ سازی کس حد تک خودمختار ہے؟
خاموشی شکوک کو تقویت دیتی ہے جبکہ شفافیت اعتماد کو جنم دیتی ہے۔ بلوچستان کے عوام کمزور یا متزلزل قیادت کے متحمل نہیں ہو سکتے۔
اگر حکومت واقعی بااختیار ہے تو اسے یہ تاثر زائل کرنا ہوگا کہ فیصلے کسی نام نہاد بلیک میلنگ مافیا کے زیر اثر ہو رہے ہیں